Vol. XVIII · Free shipping $75+ · Read the collection
Feature · Product Review

Zara Num Ho- ذرا نم ہو My Version India-Pakistan War 1965 By General Muhammad Musa H.J It is an exhaustive

Zara Num Ho- ذرا نم ہو My Version India-Pakistan War 1965 By General Muhammad Musa H.J It is an exhaustivePages: 112 Category: Self Motivation

SKU: 19652324040 · From kehrbaum-architekten.de

4.4
USD200.00 USD235.00

Pay in 4 interest-free payments of $50.00 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 30 - Aug 4

Description

It is an exhaustive

And if they won't look for Jamie then Pip will

ظفر اللہ پوشنی مئی 1926ء میں مشرقی پنجاب کے شہر امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ کے زمانے کی تحریک کے لیڈر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور اُردو زبان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا تعلق بھی امرتسر کے اسی کشمیری خاندان سے تھا۔ ظفر اللہ پوشنی نے بی اے کا امتحان سترہ سال کی عمر میں پاس کیا اور ایم اے (پولیٹکل سائنس) کا پہلا سال ختم کرنے کے بعد برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں وہ مختلف چھاؤنیوں میں تعینات رہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ظفر اللہ پوشنی آرمی سگنل اسکول پونہ میں انسٹرکٹر تھے۔ وہ سگنل کور کے ساز و سامان میں پاکستانی فوج کے حصے کی نگہداشت کرتے کرتے پونہ سے جبل پور گئے اور کئی جتنوں کے بعد وہاں سے مال گاڑی میں یہ تمام سامان لے کر فروری 1948ء میں بالآخر پاکستان پہنچے۔ اس وسیع ساز و سامان کو تقسیمِ ہند کے کچھ مہینے بعد پاکستان پہنچانا ظفر اللہ پوشنی کا کارہائے نمایاں تھا، جس پر وہ ساری عمر فخر کرتے رہے۔ 1951ء میں کیپٹن ظفر اللہ پوشنی کو میجر جنرل اکبر خان و دیگر فوجی افسروں اور بعض نامور سویلین شخصیتوں کے ہمرا ہ گرفتار کرلیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جو راولپنڈی مقدمہ سازش کے نام سے مشہور ہوا۔ چارسال قید کاٹنے کے بعد 1955ء میں رہائی ہوئی تو ظفر اللہ پوشنی نے یونیورسٹی لاء کالج لاہور میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ ابھی انھوں نے وکالت کا کام نیا نیا شروع ہی کیا تھا کہ جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے تمام لوگوں کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا، ان میں ظفر اللہ پوشنی بھی شامل تھے۔ اس بار وہ چار مہینے جیل میں رہے جس میں ایک مہینہ قیدِ تنہائی میں کاٹا۔ جسٹس کیانی مرحوم کے احکامات کے مطابق فروری 1959ء میں ان کو رہائی نصیب ہوئی تو وہ کراچی چلے گئے اور مین ہٹن ایڈورٹائزنگ کمپنی میں بطور کاپی رائٹر ملازمت اختیار کر لی۔ چند سال میں ظفر اللہ پوشنی ترقی کرکے کمپنی کے کریٹیو ڈائریکٹر بن گئے ۔ چھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ اسی کمپنی کے ساتھ منسلک رہے۔ مارچ 2020ء میں کووڈ کی وبا پھیلتے ہی ساری دنیا لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ آفس بھی بند ہو گئے۔ گھر بیٹھنا ظفر اللہ پوشنی کو راس نہ آیا اور وہ بیمار رہنے لگے۔ چھ اکتوبر 2021ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ 93 سال کی عمر تک ظفر اللہ پوشنی اپنے دفتری فرائض بخوبی انجام دیتے رہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرتے اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے فٹ تھے۔

زندہ کتابیں سلسلہ نمبر 63

( میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔ اگر تم میری زندگی میں نہیں ہو گی تو میں مر جاؤں گا۔ میں آپ کے لئے ہر روز پھول لاؤں گا۔ میں تمہیں بہت پیار دوں گا۔‘‘

Zara Num Ho- ذرا نم ہو My Version India-Pakistan War 1965 By General Muhammad Musa H.J It is an exhaustivePages: 112 Category: Self Motivation

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products